اخلاق بے زبان
تحریر از قلم : محمد وقاص خالد چوہدری
9 اگست 2019 شام کے 7 بج چکے تھے میں اپنے آفس سے اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا آج مجھے اور میرےایک بہت ہی اچھےدوست وسیم کو عید الالضحٰی کی چھٹیوں پر جانا تھا۔ پورے دن کی تھکان ایک طرف لیکن چھٹی پر جانے کی خوشی اس تھکان پر ہاوی تھی ۔
موسم بہت اچھا تھا ہوا ٹھنڈی تھی ۔ میں میس میں گیا تھوڑا کھانا کھایا اور اپنی گاڑی کو ایک نظر چیک کرنے کے بعد وسیم جو کہ دوسرے کیمپ میں تھا اسے کال ملائی اور پوچھا کہ تیا ری کا کیا سٹیٹس ہے ۔" اس نے بتایا میں تیا ر ہوں لیکن آپ نے کہا تھا کہ کراچی سے کسی دوست نے ساتھ جانا ہے۔ تو کیا وہ پہنچ گیا ہے" ۔ میں نے کہا میں چیک کرتا ہوں ۔اور فورا کراچی سے آنے والے دوست کو کال ملائی وہ دوست کسی مشہور برینڈ میں مینیجر تھا ۔ اس نے کہا میں ابھی آفس سے نکلا ہوں ۔ لیکن صبح تیاری کر کے آفس آیا تھا تو میرا بیگ میرے ساتھ ہے ۔میں یہاں سے سیدھا حیدرآباد کے لیے نکلوں گا اورڈیڑھ گھنٹے تک حیدرآباد پہنچ جاوں گا ۔
میں نے دوبارہ وسیم کو کال ملائی اور کہا کہ میں آپ کے کیمپ آ رہا ہوں آپ کو بھی یہا ں میرے کیمپ میں لے آتا ہوں جیسے ہی کراچی والا دوست پہنچے گا ہم نکل پڑیں گے ۔
میں اور وسیم اچھے دوست ہیں ہم حیدرآباد میں موٹروے ۹ پرحیدرآباد سے کراچی کی طرف ۵۰ کلومیٹر حیدرآباد سے باہر ایک پروجیکٹ پر اچھے عہدوں پر ملازمت کرتے تھے ۔ اور اکثر ایک ساتھ چھٹیوں پر جاتے وسیم بھی میرےآبائی شہر سے ہی ہے۔ تو ہم اکثر چھٹی ایک ساتھ ہی پلان کرتے تھے جو کہ ہر ۴۵ دن یا ۶۰ دن کے بعد ہوتی تھی ۔سفر کافی لمبا ہوتا تھا تو میں اپنےآبائی شہر میں ایک دن رک کر فیصل آباد کے لیےنکل جاتا تھا کیونکہ میری فیملی فیصل آبا د میں ہے۔
وسیم کو میں اپنے کمرے میں لے آیا وہاں بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ کی چاۓ پی رہے تھے کہ کراچی سے آنے والے دوست کی کال آئی کہ میں پہنچنے والا ہوں تو میں اور وسیم کار میں سوار ہو کر چل دیے اور روڈ پر جا کر دوسرے دوست کو ساتھ لیا اور اپنے سفر کا آغاز کر دیا ۔ ابھی ہم حیدرآباد بھی نہ پہنچے تھے کہ بوندا باندی شروع ہو گئی۔ ایسے سفر میں تھوڑی تیز بارش ہو تو زیادہ مسٔلہ نہیں ہوتا بلکہ سفر کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر بوندا باندی ہو رہی ہو تو سڑک پر صورت حال تھوڑی خطرناک ہو جاتی ہے اور بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کیونکہ جب آپ کسی بڑی گاڑی مطلب ٹرک یا ٹریلر کو کراس کرتے ہیں تو اس کے ٹا یٔر زکے ساتھ مٹی اور پانی کا مکسچر ونڈ شیلڈ پر پڑتا ہے جو کے کبھی کبھی ونڈ شیلڈ کو بالکل بلاک بھی کر دیتا ہے اس لیے ہم بہت کم سپیڈ کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔
ہمیں سفر شروع کیے ہوے دو گھنٹے ہو چکے تھے بونداباندی کی وجہ سے بہت ہی کم سفر طے ہوا تھا لیکن کچھ فاصلہ مزید طے کیا تو بوندا باندی رک گئی لیکن مسلسل روڈ پرزیادہ دھیان دینے کی وجہ سے میں دماغی طور پر تھک چکا تھا ۔ تو ایک ہوٹل پر رکے کچھ چاۓ اور سنیکس لیے اور میں نے وسیم سے کہا کہ " یار!کار اب تم چلاؤمیں تھک چکا ہوں"۔ اور میں پیچھے والی سیٹ پر دراز ہو گیا وسیم گاڑی چلانے لگا ۔
رات کافی ہو چکی تھی اور روڈ پر رش اب تک کافی کم ہو چکا تھا ۔میں موبایٔل پر سکرولنگ کر رہا تھا کہ اچانک وسیم کے منہ سے نکلا یا اللہ خیر میں نے فورا سامنے کی طرف دیکھا تو ایک کار جو ہم سے آگے تھی ایک ڈمپر ٹرک کو کراس کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور ٹرک والا سے راستہ نہیں دے رہا تھا بلکہ بار بار اس کو ایک طرف دھکیل دیتا تھا اور پھر ہمارے دیکھتے دیکھتے جیسے ہی کار اس کو کافی حد تک کراس کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ٹرک والے نے اس کار کے ٹرنک (ڈیگی ) والے حصے کو ایک طرف سے ہٹ کر دیا اور کار اچانک سے ٹرک کے آگے کی طرف موڑ گئی اور سڑک سے نیچے کی طرف لڑھک گئی یہاں سڑک جو کہ خاصی اونچی تھی اور ساتھ والی زمین جو کافی نیچی تھی اورنیچے اندھیرے کی وجہ ویسے بھی کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا کہ سڑک سے نیچےکیا ہے جیسے ہی وہ نیچے گہری جگہ میں گری تو پانی کے چھینٹے بہت اوپر تک آۓ ہمیں لگا کہ شأید ساتھ کوئی نہر ہے جس میں گاڑی جا گری ہے وسیم نے فورا گاڑی اس کنارے کی طرف کر کے روک لی گاڑی کی ہیڈ لاءٹس کی کچھ نا کچھ روشنی وہا ں پڑی تو پتا چلا کہ یہاں کوئی نہر نہیں بلکہ سیم والے پانی کا کافی بڑا جوہڑ تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا یہ علاقہ بلکل ویران تھا ۔دور کہیں کچھ روشنیا ں نظر آ رہی تھیں ہم فورا گاڑی سے نیچے اترے تو ہمیں لگا شأید گاڑی میں فیملی ہے اور جب گاڑی پر ہماری کار کی کچھ روشنی پڑی تو پتہ چلا کہ گاڑی اس جوہڑ میں الٹ گئی ہے رات کا درمیانہ پہر شروع ہو چکا تھا ارد گرد سے کسی طرح کی مدد کی کوئی امید نہ تھی تو ہم تینوں اس جوہڑ میں اتر گیٔے جو بظاہر تو گہرا نہیں لگ رہا تھا لیکن جب اس میں اترے تو پنڈلیوں تک دلدل تھی اور گٹنوں سے اوپر پانی بہت مشکل سے گاڑی تک پہنچے ہمارے پہنچنے تک ایک آدمی کار سے باہر آ چکا تھا اور دوسرا کوشش کر رہا تھا جیسے کیسے ان دونوں کا باہر نکالا ان سے پوچھا کہ کار میں کوئی اور تو نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں صرف ہم دو ہی تھے ۔ٹرک والا تو رکا ہی نہیں تھا ۔ ایسے بھاگا تھاجیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ویسے بھی اس کے پیچھے جانے کی بجاۓ کار میں موجود لوگوں کو بچانا ضروری تھا ۔
جیسے کیسے ان کو نکال کر باہرروڈ پر لاۓ ان میں سے ایک چیخ رہا تھا کہ میرے کولہے پر چوٹ لگی ہے ۔ ہماری کار کے پاس لا کر ان کو بٹھایا اور ٹرنک میں سے پانی کی بوتلیں نکال کر ان کے منہ دھوے تو وہ کوئی پچاس پچپن سال کے دو آدمی تھے یہا ں سے سب سے قریبی شہر رانی پور تھا جو کہ تقریبا ۱۵ کلومیٹر دور تھا ان آدمیوں کا حال پوچھا تو ایک نے سگریٹ مانگا اور دوسرے نے کہا کہ ایک کال ملا دیں ۔ میں نے نمبر پوچھ کر کال ملائی تو آگے سے جس لڑکے نے کال اٹینڈ کی وہ اس زخمی آدمی کا بیٹا تھا ۔میں نے اس لڑکے کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور اس کے والد سے اس کی بات کروا ئی تو وہ بولا میں رانی پور میں ہوں ابھی یہاں سے نکل رہا ہوں تیس پینتیس منٹ میں آپ کے پاس پہنچ جاوں گا۔ہمیں علاقے کا بہت زیادہ اندازہ بھی نہیں تھا ہم جو کر سکتے تھے کر چکے تھے ۔اب اس لڑکے کے آنے کا انتظار کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کو ئی چارہ نہ تھا۔
اتنے میں کہیں سے پولیس کی پیٹرول پارٹی وہاں آپہنچی اور ہم سے سوال جواب شروع کر دیے جو کہ شروع میں تو نارمل تھے جیسے کیا ہوا ؟ کیسے ہوا؟ کس نے کیا؟ ٹرک کون سا تھا ؟ اس کا نمبر کیا تھا؟ وغیرہ، وغیرہ لیکن بعد میں کچھ عجیب سے سوال کرنے لگے جیسا کے ان کے پاس کیا سامان ہے؟ تم لوگ کہاں سے آ رہے ہو؟ تم لوگوں کے پاس کیا سامان ہے ؟ اپنی کا ر کی تلاشی دو وغیرہ ،وغیرہ۔
میں پہلے تو نارمل سوالوں کے جواب دیتا رہا لیکن ایسے فضول سوالات پر شدید غصہ آنے لگا ۔ اورمیں ان کے ساتھ سختی سے بات کرنے لگا ۔ کہ تم لوگوں میں انسانیت نہیں ہے، ہم گندے پانی سے پورے بھیگ چکے ہیں ۔ اور ایک آدمی درد سے کراہ رہا ہے ۔ ایک کار ادھر جوہڑ میں الٹی پڑی ہو ئی ہے اور تم لوگ ہم سے بکواس قسم کے سوالات کر رہے ہو؟ ۔میں تم لوگوں کے کسی بکواس سوال کا جواب نہیں دوں گا ایمرجنسی پر کال ملاو اور ایمبولینس کا بندوبست کرو ۔
قصہ مختصر ان کو اپنی ملازمت کا حوالہ دیا تو سر سر کرنے لگے۔ میں نےاس آدمی کے بیٹے کو دوبارہ کال ملائی اور اس سے پوچھا کہ کہاں پہنچے ہیں تو اس نے کہا مجھے مزید دس سے پندرہ منٹ لگ جا ئیں گے ۔ اس کو بتایا کہ بھا ئی یہاں پولیس آ گئی ہے تو کیا ہم آپ کے والد کو ان کےے حوالے کر کے جا سکتے ہیں؟ اس نے کہا جی آپ جائیں کوئی مسٔلہ نہیں ہے تو ہم لوگوں نے ان کو پولیس کے ساتھ وہاں چھوڑا اور اس لڑکے کے والد کی اجازت سے وہا ں سے چل دیے
آگے جا کر ایک ٹرک ہوٹل پر رکے اور وہا ں سے جتنا صاف پانی ملا اس سے خود کو اچھے سے دھویا جوتے (بند شوز) جو تھے ان کو اسی ہوٹل سے پولیتھین بیگ لے کر ان میں ڈالا ،کپڑے بدلے اور آگے سفر کا آغاز کیا۔ صبح چھے بجے کے قریب رحیم یار خان پہنچ کر کراچی سے آنے والے دوست کو ڈراپ کیا اور آگے خانپور کی طرف روانہ ہوگئے۔
اس پورے واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک میں وہ ادارے جن کو پبلک کے ساتھ ڈیل کرنا پڑتا ہے ان میں کمیونیکیشن سکلز نہ ہونے کے برابر ہیں لہٰذا ان کی ہیومن ڈویلپمنٹ اور کمیونیکیشن سکلز پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ارباب اختیا ر کو چاہے کہ ان کی تربیت پر توجہ دیں ۔ جب تک یہ لوگ بااخلاق نہیں ہوں گے تب تک عام عوام ان کو دیکھ کر لٹنے کا خدشہ ہی ظاہر کرے گی ۔
میرا مقصد صرف مسا ئل اجاگر کرنا نہیں ہے میری کوشش ہوتی ہے کہ مسا ئل کے حل کے لیے تجاویز بھی دی جائیں
تو بات یہ ہے کہ کوئی بھی ادارہ عوامی سہولت کے لیے بنایا جاتا ہے تو جب تک اس میں پروفیشنل لوگ نہیں ہوں گے وہ لوگوں کو سروسز دینے کی بجاے فرعون کا روپ دھار لیں گے ۔سب سے پہلے سرکاری ملازم یا سرکاری آفسر کا ٹیگ اتار کر عوامی ملازم کا ٹیگ لگایا جاۓ تاکہ ایسے ملازمین خود کو عوام کا ملازم سمجھیں نا کہ سرکار کا چھوٹا سا فرعون عوامی مسا ئل کو حل کرنے کے لیے عوامی ہونا ضروری ہے نا کہ سرکاری ہونا۔
جیسے کسی کے جرم کرنے پر اس کے جرم کی سزا میں صنف سے فرق نہیں پڑتا ویسے ہی کسی کو عہدہ ملنے پر پہلے وہ عہدہ آنا چاہیے اور بعد میں صنف یعنی اگر خاتون کسی عہدے پر فا ئز ہو جاے تو پہلے اس کا عہدہ اہم ہے اور بعد میں وہ خاتون ہے ۔ تاکہ اسے بھی پتا ہو کہ مجھے اپنی ذمہ داری پہلے پوری کرنی ہے ۔
ہیومن ڈیولپمنٹ اور کمیونیکیشن سکلز کے شارٹ کورسسز کے بغیر کسی ادارے میں ملازمت کے کوئی مواقعے نہیں ملنے چاہیے، چاہے تعلیم کتنی بھی ہو جب تک ایسے کورسز نہ کیے ہوے ہوں تب تک کس قسم کی ملازمت نہ دی جاے اور جن کو بد قسمتی سے دے دی گئی ہے ان کی ترقیاں ان کورسز سے منصوب کر دی جائیں تا کہ وہ عام لوگوں کو انسا ن اور ملک کا سرمایا سمجھیں، نا کہ اپنی رعایا ۔
جو قوانین ملازمین کے خلاف اختیارات سے تجاوز کے لیے بناے گئے ہیں وہ مزید سخت اور قابل عمل ہونا بھی ضروری ہیں تا کہ عدل قائم ہو سکے کسی بھی معاشرے میں عدل کے بغیر ایک قوم بننا نا ممکن ہے ۔عدل کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے ایک بے لگام ہجوم ہر طرف پھیلا ہوا ہو۔ اور ہجوم ترقی نہیں، بربادی کیا کرتے ہیں ۔
